جھوٹ

درجہ بندی: 3.0/10

Coalition
C0600

دعویٰ

“ویٹو اختیارات استعمال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کو روکا جس میں فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔”
اصل ماخذ: Matthew Davis
تجزیہ کیا گیا: 30 Jan 2026

اصل ذرائع

حقائق کی تصدیق

**بنیادی حقائق کی تصدیق:** ۳۰ دسمبر ۲۰۱۴ کو، آسٹریلیا (Australia) نے اقوامِ متحدہ (United Nations) کی سلامتی کونسل (Security Council) کی ایک مسودہ قرارداد کے خلاف «نہیں» ووٹ ضرور دیا تھا [۱][۲]، لیکن اس دعوے میں اقوامِ متحدہ میں آسٹریلیا کے اختیارات کے بارے میں ایک بنیادی حقیقی غلطی موجود ہے۔ **آسٹریلیا کے پاس ویٹو کے اختیارات نہیں ہیں:** آسٹریلیا ۲۰۱۳-۲۰۱۴ کے دوران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا **عارضی، غیر مستقل رکن** تھا [۳]۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صرف پانچ مستقل اراکین (P5) کے پاس ویٹو کا اختیار ہوتا ہے چین، فرانس، روس، برطانیہ، اور ریاستِ متحدہ امریکا [۴]۔ آسٹریلیا جیسے غیر مستقل اراکین کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے لیکن قطعی طور پر ویٹو کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ **حقیقت میں کیا ہوا:** اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ۳۰ دسمبر ۲۰۱۴ کا ووٹ فلسطینی ریاست کی قرارداد منظور نہ کر سکا کیونکہ: - ۱۵ میں سے صرف ۸ اراکین نے حق میں ووٹ دیا (منظوری کے لیے ۹ ووٹ درکار تھے) [۱][۵] - آسٹریلیا اور ریاستِ متحدہ امریکا نے مخالفت میں ووٹ دیا [۱][۲] - پانچ ممالک نے اپنا ووٹ محفوظ رکھا (جس میں برطانیہ اور روانڈا شامل تھے) [۱][۶] - اگر یہ قرارداد ۹ ووٹ حاصل کر لیتی تو ریاستِ متحدہ امریکا اسے ویٹو کر دیتا، لیکن چونکہ یہ اکثریت کی حمایت حاصل نہ کر سکی، اس لیے ویٹو کی ضرورت نہیں پڑی [۱] **قرارداد کا متن:** یہ اردن (Jordan) کی طرف سے پیش کردہ قرارداد (عرب ممالک کی طرف سے) درج ذیل مطالبات کرتی تھی: - اسرائیل کو ۲۰۱۷ تک مغربی کنارے (West Bank) اور غزہ (Gaza) سے نکلنے کا ہدف [۳] - ۱۹۶۷ کی سرحدوں کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے زمین کے تبادلے کا مطالبہ [۳] - فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر مشرقی بیت المقدس (East Jerusalem) کی تصدیق [۵]
**Core Fact Check:** On December 30, 2014, Australia did vote "no" (against) a UN Security Council draft resolution demanding Israel end its occupation of Palestinian territories within two years [1][2].

غائب سیاق و سباق

**آسٹریلیا کا پہلا «نہیں» ووٹ:** یہ سلامتی کونسل میں اپنی دو سالہ مدت کے دوران آسٹریلیا کی طرف سے کسی مسودہ قرارداد کے خلاف دینے والا **پہلا ووٹ** تھا [۳]۔ اس سے پہلے آسٹریلیا متنازعہ معاملات پر «نہیں» ووٹ دینے کے بجائے اپنا ووٹ محفوظ رکھتا تھا۔ **آسٹریلیا کی سرکاری وضاحت:** اقوامِ متحدہ میں آسٹریلیا کے مستقل مندوب، گیری کوئنلان (Gary Quinlan)، نے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد «توازن سے عاری ہے اور صرف ایک فریق کی طرف سے پیش کردہ حل پر زور دیتی ہے» اور کہ «حتمی حیثیت کے مسائل صرف دونوں فریقین کے درمیان حل ہو سکتے ہیں» [۲][۳]۔ انہوں نے دو ریاستی حل (two-state solution) کے لیے آسٹریلیا کے عزم کا اعادہ کیا لیکن دلیل دی کہ یہ قرارداد امن عمل کو آگے نہیں بڑھائے گی [۳]۔ **ووٹ پہلے ہی ناکام تھا:** آسٹریلیا کے «نہیں» ووٹ کے بغیر بھی، یہ قرارداد ناکام ہو جاتی کیونکہ اسے کافی حمایت حاصل نہ تھی (درکار ۹ کے بجائے صرف ۸ ووٹ)۔ آسٹریلیا کا ووٹ علامتی تھا، فیصلہ کن نہیں [۱][۶]۔ **تقسیمِ اوقات کا تناظر:** یہ ووٹ اس وقت ہوا جب آسٹریلیا اور روانڈا (Rwanda) دسمبر ۲۰۱۴ میں اپنی عارضی کونسل کی مدت مکمل کرنے والے تھے۔ آنے والے ارکان نیوزی لینڈ (New Zealand)، ملائشیا (Malaysia)، اور وینزویلا (Venezuela) فلسطینی موقف کے زیادہ حامی سمجھے جاتے تھے [۳]۔ **عرب دنیا کا ردِ عمل:** آسٹریلیا میں فلسطین کے مندوب، عزت عبدالہادی (Izzat Abdulhadi)، نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ووٹ «فلسطین اور عرب دنیا کے ساتھ تعلقات متاثر کرے گا» اور انہوں نے توقع ظاہر کی تھی کہ آسٹریلیا «کم از کم» اپنا ووٹ محفوظ رکھے گا [۲]۔
**Australia's First-Ever "No" Vote:** This was the **first time** Australia had voted against a proposed resolution during its two-year term on the Security Council [3].

ماخذ کی ساکھ کا جائزہ

**اصل ذریعہ: آرٹی (RT - Russia Today)** اس دعوے کے ساتھ فراہم کردہ اصل ذریعہ آرٹی (RT) ہے، ایک روسی ریاست سے فنڈ شدہ میڈیا ادارہ [۷][۸][۹]۔ - **میڈیا بیاس/فیکٹ چیک** نے آرٹی کو «مشکوک» درجہ دیا ہے کیونکہ یہ «روسی پروپیگنڈے، سازشی نظریات، متعدد ناکام حقائق کی تصدیق، اور مصنف کی عدم شفافیت» کو فروغ دیتا ہے [۷] - **آل سائیڈز (AllSides)** نے نوٹ کیا ہے کہ آرٹی کو «اکثر غلط معلومات پھیلانے» کے لیے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ روسی حکومت کی طرف سے فنڈ شدہ ہے [۸] - **اکادمیک تحقیق** آرٹی کو «روسی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ اور غلط معلومات کا ایک اہم عالمی ذریعہ» قرار دیتی ہے [۹] آرٹی کی اس معاملے پر رپورٹنگ نے آسٹریلیا کے پاس ویٹو اختیارات ہونے کا تاثر یا ریڈرز کو اس نتیجے پر پہنچنے کی اجازت دی ہے، جو حقیقت سے عاری ہے۔
**Original Source: RT (Russia Today)** The original source provided with the claim is RT (Russia Today), a Russian state-funded media outlet [7][8][9]. - **Media Bias/Fact Check** rates RT as "Questionable" based on "promoting pro-Russian propaganda, conspiracy theories, numerous failed fact checks, and a lack of author transparency" [7] - **AllSides** notes RT "has been accused frequently for spreading misinformation" and is funded by the Russian government [8] - Academic research identifies RT as "an important part of Russian foreign policy and key global sources of disinformation" [9] RT's reporting on this issue appears to have been misleading by suggesting or allowing readers to infer that Australia had veto powers, which is factually incorrect.
⚖️

Labor موازنہ

**کیا لیبر (Labor) نے بھی کچھ ایسا ہی کیا؟** لیبر حکومتوں (راڈ ۲۰۰۷-۲۰۱۰، گیلارڈ ۲۰۱۰-۲۰۱۳) نے اسرائیل-فلسطین کے معاملات پر قابلِ ذکر طور پر مختلف موقف اختیار کیا: **اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے ووٹ:** لیبر کے تحت، آسٹریلیا نے فلسطین سے متعلق کئی اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر اپنا ووٹ کا انداز تبدیل کیا [۱۰]: - **نومبر ۲۰۰۸:** اس قرارداد پر ووٹ «غیرجانبدار» سے «حق میں» میں تبدیل کیا جس میں جنیوا کنونشن (Geneva Convention) کے فلسطینی علاقے پر اطلاق کی تصدیق کی گئی - **نومبر ۲۰۰۸:** اس قرارداد پر ووٹ «مخالفت» سے «حق میں» میں تبدیل کیا جس میں اسرائیلی آبادکاریوں (settlements) کو «غیرقانونی اور امن کے لیے رکاوٹ» قرار دیا گیا - **دسمبر ۲۰۰۹:** اس قرارداد پر ووٹ «غیرجانبدار» سے «حق میں» میں تبدیل کیا جس میں فلسطینیوں کے خودارادیت (self-determination) کے حق کی تصدیق کی گئی **۲۰۱۲ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی فلسطین کی حیثیت کا ووٹ:** ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ کو، اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی نے فلسطین کو «غیر رکن ناظر ریاست» (non-member observer state) کا درجہ دینے کے لیے ووٹ دیا۔ لیبر حکومت نے کابینہ کی اندرونی بحث کے بعد اس ووٹ پر **اپنا ووٹ محفوظ رکھا** [۱۰]۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سائے وزیر خارجہ (Shadow Foreign Minister) جولی بشپ (Julie Bishop) نے کہا تھا کہ اتحاد (Coalition) «نہیں» ووٹ دیتا [۱۰]، جس سے اس معاملے پر واضح جماعتی تفریق کا مظاہرہ ہوا۔ **اسرائیلی آبادکاریوں پر زبان:** لیبر حکومت کے عہدیداروں، بشمول آسٹریلیا کے اقوامِ متحدہ میں سفیر گیری کوئنلان (Gary Quinlan)، نے اسرائیلی آبادکاریوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت «غیرقانونی» قرار دیا [۱۰]۔ یہ پہلی بار تھا کہ ۱۹۹۰ء کی درمیانی دہائی کے بعد کسی آسٹریلوی حکومت کی طرف سے ایسی زبان استعمال کی گئی۔ **اہم فرق:** لیبر حکومت کے دور (۲۰۰۷-۲۰۱۳) میں اسے فلسطینی ریاست سے متعلق اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس لیے اس مخصوص عمل پر براہِ راست موازنہ ممکن نہیں ہے۔ تاہم، لیبر کا مجموعی رجحان ہاوڈ (Howard) حکومت اور بعد میں ایبٹ (Abbott) حکومت کے مقابلے میں اقوامِ متحدہ کے فورمز میں فلسطینی موقف کے لیے زیادہ ہمدردانہ تھا [۱۰]۔
**Did Labor do something similar?** The Labor Governments (Rudd 2007-2010, Gillard 2010-2013) took notably different positions on Israel-Palestine issues: **UN General Assembly Votes:** Under Labor, Australia changed its voting pattern on several recurring UN General Assembly resolutions concerning Palestine [10]: - **November 2008:** Changed vote from "abstain" to "in favour" on resolution affirming the Geneva Convention applies to Occupied Palestinian Territory - **November 2008:** Changed vote from "against" to "in favour" on resolution stating Israeli settlements are "illegal and an obstacle to peace" - **December 2009:** Changed vote from "abstain" to "in favour" on resolution affirming Palestinian right to self-determination **2012 UNGA Palestine Status Vote:** On November 29, 2012, the UN General Assembly voted to accord Palestine "non-member observer state" status.
🌐

متوازن نقطہ نظر

**آسٹریلیا کے موقف کو سمجھنا:** آسٹریلیا تاریخی طور پر بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے سب سے قریبی حامیوں میں سے ایک رہا ہے۔ اتحاد (Coalition) حکومت کا ووٹ آسٹریلیا کی روایتی خارجہ پالیسی کی پوزیشن اور ریاستِ متحدہ امریکا کے ساتھ اس کے اتحاد کے مطابق تھا، جس نے بھی «نہیں» ووٹ دیا تھا [۲][۳]۔ **جائز پالیسی جواز:** آسٹریلوی حکومت نے دلیل دی کہ: ۱۔ یہ قرارداد «یک طرفہ» تھی اور توازن سے عاری تھی [۳] ۲۔ امن صرف فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات سے حاصل ہو سکتا ہے، مسلط شدہ حلوں سے نہیں [۲][۳] ۳۔ اس قرارداد نے اسرائیل کے جائز سلامتی خدشات کو نظرانداز کیا [۳] ۴۔ آسٹریلیا مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل (two-state solution) کے لیے پرعزم رہا [۳] **ریاستِ متحدہ امریکا کے موقف کے ساتھ ہم آہنگی:** اقوامِ متحدہ میں ریاستِ متحدہ امریکا کی سفیر، سمانتھا پاور (Samantha Power)، نے اس قرارداد کو «گہری طور پر غیر متوازن» قرار دیا اور کہا کہ اس نے «غیر تعمیری مہلتیں» مقرر کیں [۵]۔ آسٹریلیا کا ووٹ اس موقف کے ساتھ ہم آہنگ تھا، اگرچہ دونوں ممالک نے اپنے «نہیں» ووٹ کی الگ وضاحت پیش کی [۳]۔ **یہ اتحاد (Coalition) کی منفرد حرکت نہیں تھی:** اگرچہ یہ مخصوص سلامتی کونسل کا ووٹ ایبٹ (Abbott) اتحاد حکومت کے تحت ہوا، لیکن اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کی حمایت میں آسٹریلیا کا ووٹنگ پیٹرن تاریخی طور پر دونوں اتحاد اور لیبر حکومتوں میں مستقل رہا ہے، اگرچہ لیبر نے ۲۰۰۷-۲۰۱۳ کے دوران زیادہ متوازن موقف اختیار کیا [۱۰]۔ اتحاد حکومت نے ان معاملات پر ہاوڈ (Howard) دور کی پالیسی واپس لائی [۱۰]۔ **ویٹو کی غلط تشریح:** d dعوے کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نے «ویٹو کے اختیارات استعمال کیے»، یہ حقیقت سے عاری ہے۔ آسٹریلیا نے کبھی بھی اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار حاصل نہیں کیا۔ اس غلط فہمی کی وجوہات میں درج ذیل ہو سکتے ہیں: ۱۔ مستقل اور غیر مستقل کونسل اراکین کے درمیان فرق کی ناقص سمجھ بوجھ ۲۔ یہ حقیقت کہ دونوں آسٹریلیا اور ریاستِ متحدہ امریکا نے «نہیں» ووٹ دیا ۳۔ جماعتی ذرائع (آرٹی - RT) نے شاید بیانیہ ایسے طریقے سے پیش کیا تاکہ تنقید کو زیادہ سے زیادہ کیا جائے
**Understanding Australia's Position:** Australia has historically been one of Israel's strongest supporters internationally.

جھوٹ

3.0

/ 10

یہ دعویٰ اپنی بنیادی توثیق میں حقیقت سے عاری ہے۔ آسٹریلیا کے پاس کبھی بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیارات نہیں رہے۔ صرف پانچ مستقل اراکین (ریاستِ متحدہ امریکا، برطانیہ، فرانس، روس، چین) کے پاس ویٹو کا اختیار ہے [۴]۔ اگرچہ آسٹریلیا نے ۳۰ دسمبر ۲۰۱۴ کو فلسطینی ریاست کی قرارداد کے خلاف «نہیں» ووٹ ضرور دیا تھا، لیکن یہ ایک معمول کا ووٹ تھا، ویٹو نہیں [۱][۲][۳]۔ قرارداد اس لیے ناکام ہوئی کیونکہ اسے صرف ۸ حامی ووٹ ملے درکار تھے)، آسٹریلیا کی کسی عمل کی وجہ سے نہیں [۱][۵]۔ یہ دعویٰ ویٹو اختیارات کے استعمال کے بارے میں آسٹریلیا کے ووٹ کی نوعیت کو بھی غلط پیش کرتا ہے۔ اصل ذریعہ، آرٹی (RT)، پروپیگنڈے اور غلط معلومات کے لیے جانا جاتا ایک مشکوک ذریعہ ہے [۷][۸][۹]، جس سے یہ حقیقی مسخ پیدا ہو سکتی ہے۔
This claim is factually incorrect on its central assertion.

📚 ذرائع اور حوالہ جات (10)

  1. 1
    UN Security Council action on Palestinian statehood blocked

    UN Security Council action on Palestinian statehood blocked

    Falling short of the required number of positive votes and faced with a veto from one of its permanent members, the United Nations Security Council today failed to adopt a draft resolution that would have affirmed the “urgent need” to reach within 12 months a peaceful solution to the situation in the Middle East and would have paved the way to a Palestinian state with East Jerusalem as its capital.

    UN News
  2. 2
    Australia Votes 'No' On Palestinian Draft Resolution at UNSC

    Australia Votes 'No' On Palestinian Draft Resolution at UNSC

    Australia joined the United States in voting “no” on a UN Security Council draft resolution on Palestine.

    Thediplomat
  3. 3
    Australia votes against Palestinian UN resolution on Israel

    Australia votes against Palestinian UN resolution on Israel

    Australia has voted against a proposal in the United Nations Security Council demanding Israel end the occupation of Palestinian territories within two years.

    The Sydney Morning Herald
  4. 4
    un.org

    UN Security Council - Veto Power

    Un

    Original link unavailable — view archived version
  5. 5
    Security Council rejects Palestinian statehood

    Security Council rejects Palestinian statehood

    The U.N. Security Council, in a close 8-2 vote with five abstentions, on Tuesday voted down a Palestinian statehood resolution.

    CNN
  6. 6
    Palestinian statehood resolution fails at UN Security Council

    Palestinian statehood resolution fails at UN Security Council

    US veto not needed as motion falls one vote short, with last-minute Nigerian change of heart. France among 8 votes in favor; US, Australia against, five abstain

    Timesofisrael
  7. 7
    RT News Bias and Credibility - Media Bias/Fact Check

    RT News Bias and Credibility - Media Bias/Fact Check

    QUESTIONABLE SOURCE A questionable source exhibits one or more of the following: extreme bias, consistent promotion of propaganda/conspiracies, poor or no

    Media Bias/Fact Check
  8. 8
    allsides.com

    RT Media Bias - AllSides

    Allsides

  9. 9
    journals.sagepub.com

    Does Russian Propaganda Lead or Follow?

    Journals Sagepub

  10. 10
    PDF

    Australia and the Middle East conflict: the Rudd and Gillard Governments (2007-13)

    Core Ac • PDF Document
    Original link unavailable — view archived version

درجہ بندی پیمانے کا طریقہ کار

1-3: غلط

حقائق کے لحاظ سے غلط یا بدنیتی پر مبنی من گھڑت۔

4-6: جزوی

کچھ سچائی لیکن سیاق و سباق غائب یا مسخ شدہ ہے۔

7-9: زیادہ تر سچ

معمولی تکنیکی تفصیلات یا الفاظ کے مسائل۔

10: درست

مکمل طور پر تصدیق شدہ اور سیاق و سباق کے لحاظ سے منصفانہ۔

طریقہ کار: درجہ بندیاں سرکاری حکومتی ریکارڈز، آزاد حقائق کی جانچ کرنے والی تنظیمات اور بنیادی ماخذ دستاویزات کے باہمی حوالے سے طے کی جاتی ہیں۔